NEW UPDATES

August 29, 2016

Mere Dada Ilm o Amal Ke Sangam

میرے دادا، علم و عمل کے سنگم 



صوفی مفتی عبد الواجد نیّر قادری علم و فن کے مجمع البحرین ہیں ۔آپ جہاں ایک طرف علم و تعلم کے غواص مانے جاتے ہیں وہیں دوسری طرف فن تصوف میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ اور یہی ایک کامل مومن کی پہچان بھی ہے کہ اس کا وجود علم ِظاہر و باطن کانمونہ ہو، اور بلا شبہ حضرت کی شخصیت ہرایک دو کا حسین سنگم ہے ۔ 

صوفی و صافی ہے جو مردِ ذکی 
ظاہر و با طن میں ہے عالم وہی 

فقہ اورتصوف دو جسم ایک جان ہیں ۔ فقیہ صوفی نہیں تو ناقص اوراگر صوفی کے اندر تفقہ نہیں تو گمراہ ہے ۔ اس ضمن میں امام مالک کا قول مشہو ر ہے : 

من تفقہ و لم یتصوف فقد تفسق و من تصوف و لم یتصوف فقد تزندق و من جمع بینھما فقد تحقق 

علم فقہ حاصل کرنے کے بعد جس نے تصوف اختیار نہیں کیا وہ فسق و فجور میں مبتلا ہو گیا اور جس نے صوفیت اختیار کی اور علم شریعت سے دور رہا وہ بے دین و زندیق ہو گیا اور جس نے ایک ساتھ دونوں حاصل کر لیے اس نے حقیقت مراد پا لی ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ : ۲؍ ۱۹۰ ، کتاب العلم ، الفصل الثالث )

اسی طرح کا قول حضرت امام شافعی کا بھی ہے ، فرماتے ہیں : 

فقیھاً و صوفیاً فکن لیس واحدا
فانی و حق اللہ ایاک انصح 
فذاک قاس و لم یذق قلبہ تقی
و ھٰذا جھول کیف ذو الجھل یصلح

(اللہ کے لیے میں تجھے نصیحت کر رہا ہوں کہ فقیہ اورصوفی بنو ، کوئی ایک ہی نہ رہ جاؤ ، کیوں کہ فقیہ محض ، سخت دل ہوتا ہے ، اس کاقلب خوف خدا کی لذت سے آشنا نہیں ہوتا ، جب کہ صوفی محض، جاہل ہوتا ہے اور جاہل بھلا اصلاح کیوں کر قبول کر سکتا ہے ۔ )

ان تمام اقوال کو داعی اسلام شیخ ابو سعید احسان اللہ محمدی صفوی ادام ظلہ علینا نے اپنی مثنوی ’’نغمات الاسرار فی مقامات الابرار ‘‘ میں بڑے ہی منظوم انداز میں پرو دیا ہے ۔ فرماتے ہیں :

بے شریعت کے طریقت ہے حرام
بے طریقت کے شریعت ہے ناتمام 
اس حقیقت کو سمجھ اے بے یقیں
مولوی صو فی نہیں تو کچھ نہیں 
مولوی صوفی نہیں تو با خدا
فاسق و گمراہ ہے سر تا بپا 
صوفی ِ جاہل ہو جو مسند نشیں
غوث و ابدال و قطب ہرگز نہیں
بے عمل صوفی ہو جو سر تا بپا
ملحد و زندیق ہے وہ با خدا
فقہ سے غافل ہو گر صوفی کوئی
در حقیقت وہ ہے بد بخت و شقی 
(نغمات الاسرار ، ص ۶۷)

اور یہ بات کہنے میں میں حق بجانب ہوں کہ امین شریعت نے ’’دین‘‘ کے دونوں پہلوؤں کو یکجا کر کے اپنا علمی و روحانی دور کا آغاز کیا اور آج ایک منفرد مقام پر جلوہ فرماہیں، جو انہیں کا حصہ ہے ۔حضرت نے جہاں فقہیات پر سیکڑوں نمایاں کاوشیں پیش کی ہیں اور علم و تعلم کے فروغ کے لیے خوب سے خوب کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔وہیں حضرت کا گوشۂ تفکر اور ذوق ، تصوف و روحاینت کا آئینہ دار ہے ۔ 

آپ نے اپنی قلبی واردات کے اظہارکے لیے صوفیانہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے شاعری کا بھی سہارا لیا اور وہ بھی اس شان سے کہ کسی سے کوئی اصلاح کی ضرورت پیش نہیں آئی ، بلکہ آپ کی فطری جودت میں ہی سلاست و برجستگی کا عنصر رہا اور آپ لکھتے گئے ، جس کی بنا براپنے احوال وکوائف کوبھر پور شعری قالب میں ڈھالا اور کافی کچھ لکھا ہے ۔ حال و وجدان میں نغمگی کس قدر اثر نگیز ہوتی ہے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں اور حضرت کی شاعری میں تو ایسی والہانہ برق فشانی ہوتی ہے جو سامعین کے دلوں پر سحر انگیز اور فغان ِ آگہی بن کر ہی گرتی ہے اور دلوں کووجد و سرور کی کیفیت سے ہم آہنگ کرتی نظر آتی ہے ۔ 

راقم خود حضرت کا ممنون کرم ہے کہ’’ ذوق شاعری‘‘ کے چند رشحات اس خستہ پر بھی اثر آفریں ہوئے ہیںجسے بجا طور پر موروثی انعام کہا جا سکتا ہے ۔ ایک دن خانقاہ عارفیہ کے سجادہ نشیں داعی اسلام شیخ ابو سعیدشاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام ظلہ علینا نے مجھ سے پوچھا کہ : بیٹا! تمہارے دادا کا نام کیا ہے ۔ میں نے بڑے ادب سے بتایا: مفتی عبد الواجد،داعی اسلام نے برجستہ مجھے یہ دعا دی کہ:’’اللہ تمہیں صاحب وجد بنائے‘‘ ۔اب بن مانگے عطا ہوئی اس قیمتی سوغات کو کس قدر میں نے درون خانہ سنبھال رکھا ہے یہ میں ہی جانتا ہوں۔گویا داعی اسلام نے دادا کے نام پہ مجھ خوش بخت کو عشق و شوق کا ایک پیمانہ عطا کردیا ۔یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیبے کی بات ہے ۔۔۔

امین شریعت کی ایک صوفیا نہ غزل کے چند مصرعوں پر میں اپنی تحریر سمیٹ رہا ہوں ۔

اے شیخ میکدہ سے کہیں دور جا کے بس
رندوں کی میکشی کا زمانہ اب آ گیا 
جب ان کے حسن ناز کا پردہ ا ٹھا تو میں
راہِ فنا بقا سے گذرتا چلا گیا 
ناصح بتا کہ عشق کاسجدہ کسے کروں
وہ رشکِ ماہتاب مرے دل میں آ گیا
قسمت پہ نا ز نیّر رضوی کو ہے سدا
ذرّہ تھا نور بن کے فضاؤں پہ چھا گیا

Share this:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.

Text Widget

 
Copyright © 2014 Welcome To My Official Blog ⅼ Tarique Raza. Designed by OddThemes | Distributed By Blogger Templates20