NEW UPDATES

August 29, 2016

Sheikh Aboobacker Ahmed

سلطان الاساتذہ قمر العلماء ابوالایتا م شیخ ابوبکر احمد
 عالم اسلام کی ایک تاریخ ساز عبقری شخصیت
  
کالی کٹ کیرالا جنوبی ہند کے بحیرہ عرب ساحلی علاقہ کیرالا کے نام سے مشہور ومعروف ہے ۔اس صوبے میں علم وفن کی ترویج واشاعت ،دعوت وتبلیغ کیلئے سب سے پہلے صحابہ کرام ،صالحین عظام کے مقدس قدم پڑے ۔کبھی اس صوبے کو حضرت مالک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے یاد کیا گیا تو کبھی  ہندوستان میں اسلام کی آمد کا شرف اولیں کا درجہ دیا گیا۔تاریخی روایت کے مطابق ہندوستان کی پہلی مسجد کی تعمیر کا بھی شرف سرزمین کیرالا کو حاصل ہے ۔اسی شہرمیں بدری صحابہ و ِحضرت آدم علیہ السلام کے قدم مبارک  کے نشان بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ریاست کیرالا میں کالی کٹ اور مالاپورم وقرب وجوار کا علاقہ ملبار کے نام سے شہرت یافتہ ہے ۔یہاں کے باشندگان کو ملباری کہا جاتا ہے ۔اسی علاقہ میں قطب عالم جلیل القدر شخصیت علامہ عبدالقادر،احمد کویا شالیاتی،شیخ زین الدین سمیت کئی اہم اکابرین اس خاکدان گیتی پر جلوہ نما ہوئے جواپنے زہد وتقوی عظمت  وبلندی کی بنیاد پر ممتاز اور قابل تقلید اور شہرت کے حامل ہوئے ہیںجنکی قائدانہ صلاحیت ، فکری بصیرت ،علمی کارنامہ بیان سے باہر ہے ۔لیکن اسی فرش گیتی پر اسے خالق کائنات کی نعمت عظمی کہئے کہ ہندوستان کے معروف تاریخی ریاست کے ضلع کالی کٹ سے تقریبا25کلو میٹر فاصلہ پر ’’کانداپورم‘‘نامی مقام پر ۲۲ مارچ 1931کو ایک علمی گھرانے میں شیخ ابوبکر بن احمد کا وجود بخشا جو اپنی تنہا ذات میں ہمہ جہت صلاحیتوں اور خداداد قائدانہ صلاحیت ،فکری بصیرت جماعتی اقتدار کی پاسبانی کا جذبہ لئے ہوئے ممتاز اور قابل تقلید شہرت کے حامل ہوئے ۔شیخ ابوبکر احمد ایک بین الاقوامی شخصیت کا نام ہے جس کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے ۔جنہیں کیرالا میں کاندراپورم اے پی ابوبکر استاد کے نام سے جانتے ہیں ۔آپکے تعمیری ،تنظیمی ،تحریکی کارناموں سے ساراجہاں واقف ہے ۔ 

شیخ ابوبکر نے وہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جنہیں صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ممالک خاص طور پر عرب ممالک میں قدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔آپ نے جو اپنی علمی کاوشوں اور انتھک محنت وکوششوں سے دینی ترویج واشاعت،معاشرتی تشکیل تنظیم و تحریک ،کفالت ایتام کا جو بگل بجایا ہے وہ انتہائی قابل تعریف ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپکو بیرون ممالک کی بڑی بڑی اسلامی کانفرنسوں میں ہندوستان کی طرف سے نمائندگی بھی کی۔آپکی انسانی خدمات اور تعلیمی تحریک کی بدولت عرب ممالک نے کافی تشجیعی اور تہنیتی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا ہے ۔گذشتہ سال سلطنت دبئی نے آپکو پندرہویں صدی کا عظیم مبلغ ’’مبلغ اعظم ‘‘ ایوارڈ سے سر فراز کیا ہے ۔بالخصوص قوم مسلم کے اندر اتحاد واتفاق،پورے ملک میں دینی وعصری تعلیمی کا فروغ ،یتیموں اور مسکینوں کی کفالت ،ملی ومذہبی قائدین ،رئوساء اسلامی تنظیم ،ائمہ مساجد ومدارس کو متحد کر کے ایک ہی نظام ونسق کے ذریعہ تعلیم وتربیت ،فلاحی خدمات اور معاشرتی امور کی نمائندگی جیسے اہم کارنامے ہیں جو اپنے آپ میں بلاشبہ عظیم کارنامہ ہے ۔کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک اور آسام سے لیکر گجرات تک ملی ومذہبی تعلیمی ومشارتی معاملات میں جس طرح سے تحریک جاری رکھی ہے وہ مستقبل قریب میں آنے والی نسلوں کیلئے کامیابی کی ضمانت ہے ۔

ابتدائی حالات:
 زمانہ طفولیت کی تعلیم وتربیت اپنے آبائی گھرانے میں پائی ،ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے شروع کی بعدہ کیرالا کے مختلف دینی اداروںمیں ثانوی تعلیم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ اعلی تعلیم کیلئے آپ جنوبی ہند کی قدیم مشہور معروف درسگاہ ’’جامعہ باقیات الصالحات ‘‘ویلور تمل ناڈو میں داخل ہوئے وہاں تکمیل تعلیم کے بعد 1964 میں سند فضیلت واجازت سے سرفراز کئے گئے ۔آپ نے فراغت کے بعد علمائے عرب  کے کئی اہم مشائخ وعلمائے کرام  جیسے ابولیس محمد عیسی فاذانی ،شیخ احمد طہ بن علی حدادوغیرہم سے اکتساب فیض کیا۔

تدریسی خدمات:
تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد شیخ الجامعہ شیخ ابوبکر نے جامع مسجد ایسٹیل میں چھ سال وجامع مسجد کولیکال میں سات سال تک خطیب ومدرس کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے ۔

جامعہ مرکز کا قیام:
امت مسلمہ کی فلاح وبہبودی ،دینی وعصری تعلیم وتربیت کی خاطر حضرت شیخ ابوبکر نے کالی کٹ شہر سے 13کلومیٹر فاصلہ پر واقع پُر امن فضا ء مقام کارنتھور میں 1978میں مفتی مکہ مکرمہ سید محمد بن علوی مالکی ؒکے مقدس ہاتھوں ملک کی عظیم الشان دینی وعصری اسلامی یونیورسٹی جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کی بنیادرکھوائی جہاں ملک بھر سے مثلا یوپی، بہار، بنگال، جھارکھنڈ ،آسام ،ہریانہ گجرات ،کشمیر،ممبئی ،دہلی ،چنئی وغیرہ سے اور بیرون ممالک مثلا عر ب ،امریکہ ، چین افریقہ ، ملیشیاء سری لنکا اور نیپال کے کل تقریبا 20ہزار سے زائد طلبہ وطالبات علمی تشنگی بجھا رہے ہیں ۔جن میںKGسے PGتک انجینئرنگ سے میڈیکل ،ثقافی سے اسکول،گریجویشن  کے علاوہ تکنالوجی ،مینجمنٹ ،پروفیشنل ٹریننگ تک کی تعلیم وتربیت کا معقول نظم ونسق ہے ۔جو آج ملک وبیرون ممالک میں ازہر ہند جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے نام سے معروف ومشہور ہے ۔
حضرت شیخ صاحب کی تعلیمی تحریک پر ریاست کیرالااور اور خارج میں کئی ادارے قائم ہوئے جن میں جدید طرز پر مشتمل دینی وعصری نصاب ونظام جاری ہے ۔کیرالا میں قابل ذکر ادارہ جامعہ سعدیہ کاسر گوڈ ،جامعہ احیاء السنہ مالاپورم ،جامعہ حسنیہ اسلامیہ پالاکاڈہیں جہاں دونوں تعلیم یکساں طور پر جاری ہے ۔آپکی سرپرستی میں ایک نہیںدو نہیں بلکہ 1000ایک ہزار سے زائد مدارس ومکاتب تقریبا800سے زائد مساجد و500پانچ سو CBSE انگلش میڈیم اسکول چل رہے ہیں ۔مزید ملکی سطح پر ملی ومذہبی نمائندگی وفلاحی خدمات کیلئے مسلم آرگنائزیشن آف انڈیا کے ذیلی کئی اہم فلاحی تنظمین بحسن خوبی کام کر رہی ہیں ۔جو ملک کی سب سے بڑی اقلیتی طبقہ کی خدمات انجام دے رہی ہے ۔

تصانیف:
حضرت شیخ صاحب قبلہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جہاں پر اللہ رب العزت نے آپکو بے شمار کمالات سے نوازا ہے وہیں تحریر وقلم کی بھی غیر معمولی قدرت وقابلیت عطا فرمایا ہے ۔یہی وجہ ہے ہمہ وقت درس وتدریس دعوت وتبلیغ میں مصروف رہنے کے باوجود بھی ایک درجن سے زائد کتابیں عربی وملیالم میں  تحریر فرمائیں ہیں ۔عربی کتابیں 1) (عصمۃ الانبیاء  2) (الوحدۃ الاسلامیہ 3) ( الاتباع والابتداع4) ( ریاض الصالحین5) (  السیاسۃ الاسلامیہ 6) ( فیضان المسلسلات  فی بیان الاجازۃ المتداولۃ7) ( طریقۃ التصوف  بین الاصیل  والدخیل  . ملیالی تصانیف 8) (  البراہین القاطعۃ  9) (ضد القادیانیہ 1) (مقدمۃ دراسۃ الاسلام  10) (صلاۃ المرۃ 11) ( دراسۃ عن اہل سنۃ  التعالیش  السلمی 12) ( النافورۃ الفکریہ  للعالم الاسلامی ۔

سنی جمعیۃ العلماء کیرالا کا قیام:
کیرالا میں علماء اہل سنت وجماعت کی ایک تنظیم 1926میں قائم ہوئی جسکا مقصد مسلمانان کیرالا کے مفاد عامہ فلاح وبہبود اور دینی تعلیم وتربیت کیلئے نمایاں خدمات انجام دی جائے ۔اس جمعیت کی ایک 40 رکنی مجلس شوری ہواکرتی ہے جس میں قابل قدر شخصیتوں اور ذی علم حضرات کو رکنیت دی جاتی ہے ۔1976میں حضرت شیخ ابوبکر کو اس مجلس شوری کا رکن منتخب کیا گیا۔پھر رفتہ رفتہ آپ اسکے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے ۔1975 میں شیخ ابوبکر کو جمعیۃ العلماء کی ذیلی شاخ جمعیۃ الشبان المسلمین (سمستھا کیرالا سنی یوجنا سنگم ) کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے اور 1995میں آپ یوجنا سنگم کے منصب صدارت پر فائز ہوئے ۔اسکے علاوہ ملک وبیروں ممالک کی کئی تنظیموں کا رکن اعلی منصب دیا گیا ۔

منصب قضاء:
شیخ موصوف کو 1993میں کالی کٹ ضلع کا قاضی بنایاگیا اور1995میں ویناڈ کا منصب قضاء بھی آپ کے سپرد کیا گیا۔

ملک گیر خدمات:
 شیخ ابوبکر صاحب اپنی قابل تعریف تنظیمی وتحریکی خدمات کی وجہ سے ملک بھر میں نیکنامی سے یاد کئے جانے لگے اور تنظیم وتحریک آپ کی ذات سے منسلک ہونے لگی۔تاکہ شیخ صاحب انہیں فروغ وارتقاء کی منزلوںتک لے جاسکیں ان ہی اسباب ووجوہات کے پیش نظر شیخ صاحب کو سنی جمعیۃ العلماء (آل انڈیاسنی جمعیۃ العلماء( کے جنرل سکریٹری کا عہدہ رتفویض ہوا۔اور آپ ہندوستانی مسلمانوں کی تعمیری وترقی ،اقتصادی ،ومعاشی بہتری اور تہذیب اسلام کے فروغ کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ۔حکومت  ہند کی جانب سے آپکو مرکزی حج کمیٹی کا رکن بھی مقرر کیا گیا ۔آپ ہندوستان کے غربت کے شکار علاقوں کے لوگوں کیلئے ریلیف کا بھی انتظام کرتے ہیں مسلمانوں کے قومی وملی مسائل کے حل کیلئے کئی بار ہندوستان کے وزراء اور ارباب حکومت سے گفت وشنید اور ان سے بات چیت کیا۔مسلمانوں کے مطالبات سے اہل حکومت کو آگاہ کیا ۔

عالمی خدمات:
شیخ ابوبکر صاحب سال  1998سے امریکہ کی مجلس اسلامی کے رکن ہیں اور اسی طرح عمان کے آل بیت یونیورسٹی کے بھی ایک رکن ہیں

خطبات ومواعظ: 
شیخ موصوف ایک عہد ساز خطیب اور فصیح اللسان مقرر ہیں ملک وبیرون ممالک میں مختلف علمی ،اصلاحی واعتقادی موضوعات پر پانچ ہزار سے زائد خطبات ہوچکے ہیں جن سے امت مسلمہ کو رہنماخطوط ملے ۔قوم ترقیات کی طرف راغب ہوئی اپنے ایمان وعمل پر قائم رہ کراسلامی شکل میں اپنی زندگی گذارنے کا انہیں سلیقہ ملا ہر عہد میں کچھ انقلاب آفریں شخصیات جلوہ گر ہوا کرتی ہیں ۔بلا شک وشبہ شیخ ابوبکر ان میں سے ایک ہیں ۔

عالمی کانفرنسوں میں شرکت:
آپ نے کیرالا میں ایک انقلابی کیفیت پیدا کردیا ان کی تعلیمی ،تعمیری ،تحریکی وتنظیمی خدمات کا شہرہ ہندوستانی حدود سے گذرتا ہوا دور دور تک پہونچااور آپ دنیا کے مختلف ممالک کی علمی وتہذیبی ،سماجی وسیاسی مجلسوں اور کانفرنسوں میں بحیثیت مندوب مدعو کئے گئے۔ قدرے تفصیل زینت قرطاس کی جاتیں ہیں ۔
1۔قاہرہ مصر کی وزارت امور اسلامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس میں آپ 1990سے ہر سال شریک ہوتے رہے ہیں ۔2۔سال 1996میں اقوام متحدہ کی پہلی کانفرنس میں شریک ہوئے جو لاس اینجلس [امریکہ]میں منعقد ہوئی اور شیخ نے ہندوستان کے مختلف ادیان کے مابیں امن عامہ کے موضوع پر خطاب کیا۔3۔کولمبیا 1996میںانگلینڈ ]میں منعقد ہونے والے سیمنار میں آپ نے شرکت کیا ۔4۔سال 1998میں واشنگٹن [امریکا] میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی دوسری کانفرنس میں شریک ہوئے اور عصر حاضر میں مسلمانوں کے اتحاد کے موضوع پر آپ نے خطاب کیا۔5۔اردن میں مسجد ابوعیبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کیلئے 1999میں مدعو ہوئے رسالت و نبوت ‘‘کے موضوع پر منعقد  ہونے والے سیمنار میں شریک ہوئے اور سنت نبویہ کی اہمیت پر خطاب کیا۔6۔2001میں کولا لمپور [ملیشیاء ]کی ایک کانفرنس میں حاضر ہوئے ۔7۔سال2003میں جنوبی افریقہ کے جوہانس برگ میں منعقد ہونے والی فقہ اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے اور’’فقہ قانونی زندگی‘‘ ہے  کے موضوع پر گفتگو کیا۔ سال 2006 میں یوروپ میں منعقد ہونے والی ازہری کانفرنس میں شریک ہوئے ۔9۔2008 میں ملیشیاء کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔10۔سال 2009میں دوحہ میں ایک مذہبی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔12۔2010میں اردن کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔13۔2010میں موریتانیا کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔14۔سال 2011میں جامعہ ازہر قاہرہ [مصر] کے زیر انتظام منعقد ہونے والی تصوف کانفرنس میں شریک ہوئے ۔15۔2012میں استنبول ترکی میں مسجد سلطان احمد میں قرآن کریم کانفرنس میں شریک ہوئے ۔16۔2005-06-07کے ماہ رمضان میں متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے بحیثیت مہمان خصوصی مدعو ہوئے ۔

درس بخاری:
 حضرت شیخ ابوبکر احمد تقریبا 30سال سے زائد جامعہ مرکز میںدرس بخاری دے رہے ہیں اس درس بخاری میں احناف وشوافع طلباء بیک وقت حاضر رہتے ہیں اور شیخ موصوف ائمہ اربعہ کے اجتہاد وفقہ کی تشریح کرتے ہوئے احادیث کے معانی ومفاہیم کو واضح کرتے ہیں۔ درس بخاری کا روح پرور منظر نہایت ہی حسین ہوتا ہے ۔عربی زبان میں بعد نماز فجر تقریبا ۳ گھنٹے تک درس بخاری ہوا کرتا ہے ۔شمالی طلبہ کیلئے اردو زبان میں بھی مسائل کی تشریح کرتے ہیں ۔اس درس بخاری کو ہر دن  طلبہ کے علاوہ مقامی وبیرونی حضرات بھی شریک ہوتے ہیں ۔علاوہ ازیں کثیر تعداد میںلوگ ویب سائٹ پر دیکھتے ہیں ۔آپکے درس بخاری کی جامعیت کا اندازہ اس طور پر بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وقتا فوقتا مختلف خصوصی موضوع پر سیمنار منعقد کیا جاتا ہے ۔ہر سال کے اخیر میں بخاری سمیلن کے نام سے عظیم الشان پیمانہ پر ختم البخاری اجلاس کا انعقاد ہوتا ہے جس میں عالم اسلام کی مقتدر شخصیات اور علماء ومشائخ سمیت سادات بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔کیرالا کے معروف بزرگ عالم دین تاج العلماء سید عبدالرحمن البخاری کے بزبان فیض ترجمان ختم بخاری اورآپکی  رقت انگیز دعائوںپر اجلاس کا اختتام ہوتا ہے ۔ہندوستان کی منفرد بخاری کانفرنس ہوتی ہے جس میں کم از کم 10دس ہزا ر سے زائد فارغین ثقافی اور معزز علماء شریک ہوتے ہیں ۔ 

 عبدالکریم امجدی( جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کالی کٹ کیرالہ)amjadinews@gmail.com/+91 9995629773 

Share this:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.

Text Widget

 
Copyright © 2014 Welcome To My Official Blog ⅼ Tarique Raza. Designed by OddThemes | Distributed By Blogger Templates20