NEW UPDATES

My Diary

Articles

Images

November 19, 2016

محبت اور انسیت کو دل سے کیسے نکالیں


محبت اور انسیت کو دل سے کیسے نکالیں....یہی تو ایک اثاثہ ہے.....اسی پر مدار عاقبت ہے.......اللہ دلوں پر فیصلہ فرمائے گا......اگر میرا مقتدا کسی کی نظر میں کامل نہیں تو مجھ سے کیا غرض!........میری تربیت اور اصلاح علم و عمل وہ بے لوث ہو کر اتنی محبت سے کر رہا ہے کہ ہزار جانیں اس پر قربان کر دوں.......اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے ہزاروں کے ساتھ ٹکڑا جاؤں.......... 

میرا ایماں ہے تو میرا مذہب ہے تو
میرا کعبہ ہے تو میرا قبلہ ہے تو
سارے عالم میں ڈھونڈا نہ پایا کہیں
 اللہ اللہ سعید آپ سا خوبرو

August 30, 2016

Beautiful Pictures of Daiye Islam Sheikh Abu Saeed Shah Ehsanullah Muhammadi













Sultanul Arifeen Shah Ari Safi

عارف پیا کی دھوم مچی ہے
شاہ صفی کی پکار

سعیدؔ پیا کے سنگ میں جیہوں
روپ انوپ سنوار


سواد دیدۂ بینش بیاض صبحِ ایمانی
جنابِ حضرتِ عارف صفی محبوب سبحانی


دیکھو تو کیسی دھوم مچی ہے
عارفؔ پیا کے دوار
صفیؔ سعدؔ میناؔ کی بوند پرت ہے
خادمؔ صفی کی پھہار

देखो तो कैसी धूम मची है
आरिफ़ पिया के दुवार 
सफ़ी साद मीना की बूँद परत है
खादिम सफ़ी की फुहार


طالبان شوق کی بجھتی ہے جس سے تشنگی
در حقیقت وہ ہے دربار شہ عارف صفی

Talibaane Shauq Ki Bujhti Hai Jis Se Tishnagi
Dar Haqeeqat Wo Hai Darbar e Shah e Arif Safi.


हरा हरा गुम्बद कालस चमके
देख के जिसको भई मैं बवरिया

हे रे सखी कस नीक लगत है
प्रीतम प्यारे की चौबरिया

ہرا ہرا گنبد کالس چمکے
دیکھ کے جس کو بھئی میں بوریا

ہے ری سکھی کس نیک لگت ہے
پریتم پیارے کی چوبریا



سواد دیدۂ بینش بیاض صبحِ ایمانی
جنابِ حضرتِ عارف صفی محبوب سبحانی



چمنے کہ تا قیامت گلِ او بہار بادا
صنمے کہ بر جمالش دو جہاں نثار بادا


پا کر ترے دربار گہر بار کی خوشبو
قدسی کھچے آتے ہیں بصد شوق و آرزو
کیسے ادب سے روضۂ اقدس پہ با وضو
جبریل و سرافیل بہ مژگان و بہ ابرو
جاروب کشانِ حرم محترم تو


My Diary




All Articles

August 29, 2016

Quran Aur Tilawat e Quran

قرآن اور تلاوت قرآن 

قرآن شریف اللہ کی کتاب ہے جس کو اس نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اور جس طرح ہمارے نبی سارے عالم کے لیے رحمت اورہدایت بن کر تشریف لائے ،ٹھیک اسی طرح قرآن مقدس کو بھی اللہ تعالیٰ نے سارے عالم کے لیے ہدایت بناکر نازل کیا ہے ۔

یہ قرآن مقدس کی انفرادیت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد بھی ’ھُدً ی لِّلنَّاسِ‘اور ’تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ‘کی مکمل تصویر پیش کر رہا ہے ۔ یہ وہ گنج گراں مایہ ہے جو سارے عالم انسانیت کے لیے ارجمندی اورخوش بختی کا عظیم سرمایہ ہے ۔

قرآن،ہرکتاب سے افضل:
کتاب کی اہمیت اس کے لکھنے والے سے ہوتی ہے ، مصنف جس قدر بلند رتبہ والاہوگا اس کی کتاب بھی اسی طرح مقبول ومعتبر ہوگی ،یہ دنیا کی کتابوںکا حال ہے تو اندازہ لگایئے کہ قرآن مجید جواللہ کا کلام ہے اس کا رتبہ کتنا بلندہوگا، اللہ تعالیٰ کی شان سب سے عظیم اور برتر ہے تو اس کا کلام بھی سب سے اعلیٰ وافضل ہوگا ،پس واضح ہوگیا کہ قرآن مبین کلام اللہ ہونے کے سبب بقیہ تمام کتابوں پر فوقیت رکھتاہے ۔

قرآن مقدس کی عظمت اس بات سے بھی واضح ہے کہ دنیامیں کوئی ایسا نہیں جو اپنی کتاب کو دنیاکے کونے کونے میں پہنچادے اور قیامت تک اپنی کتاب کی حفاظت کرے،لیکن اللہ تعالیٰ کی واحد ذات ہے جس نے اپنی کتاب کو دنیا کے تمام گوشوںمیں نہ صرف پہنچایاہے بلکہ انگنت لوگوں کے دلوں میں اُسے محفوظ بھی کردیاہے،ارشادباری تعالیٰ ہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ‘ لَحَافِظُوْنَ۔(نحل)

ترجمہ:یقینا ہم نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔


قرآن کامعجزہ ہونا:
دنیا میں جتنے بھی انبیاومرسلین تشریف لائے سب کو معجزہ عطاکیاگیا،تاکہ اپنی نبوت ورسالت پربطور دلیل پیش کریں، ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مقدس بطور معجزہ ملااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر۲۳سال تک نازل ہوتا رہا۔  یہ مقدس کتاب قیامت تک ہرعام وخاص کے لیے رحمت وہدایت کاسرچشمہ ہے اور ایسا معجزہ ہے جس کے سامنے عرب کے بڑے بڑے فصحا بھی دنگ ہیں اور قیامت تک کی نسل انسانی کے لیے ’فَأتُوا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلَھَا‘ایک چیلنج کی صورت میں موجودہے۔اس حقیقت اور سچائی کے باوجود اگر کوئی حق سے انجان ہے تو یہی کہاجاسکتا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ۔ 

تلاوت قرآن کی فضیلت:
حدیث شریف میں ہے:
’’اِنَّمَاالاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ‘‘عمل کادارومدار نیتوںپر ہے ۔کسی بھی نیک کام کا ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک نیت صالح نہ ہو، اسی لیے اگر جائز ومباح کاموں میں  صالح نیت کی جائے تو وہ بھی کار ثواب بن جاتاہے ،اب اگر تلاوت قرآن صرف برکت اور مشکلوں سے بچنے کے لیے ہو تو گویا ہم نے اللہ کے حکم پرکماحقہ عمل نہیں کیا ،اس لیے ہمیں  چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قرآن پڑھیں اور نیت کرلیں کہ تلاوت سے ہمارے دل نرم ہوں گے اور ایمان و ایقان کو تقویت پہنچے گی، قرآن شریف میں آیا ہے :

وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہ‘ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا۔‘‘(انفال)

ترجمہ:اور جب ان پر ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان وایقان کو تقویت پہنچتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ دل میںنرمی پیداہوگی اور اللہ تک پہنچنے کی راہیں ہموار ہوںگی اور ذہن کے بند دریچے کھلیں گے ۔

قرآن کریم کے آداب میں یہ بھی ہے کہ دھیرے دھیرے خوش آوازی کے ساتھ سمجھ کر تلاوت کریں،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً ۔ (مزمل)

ترجمہ: اور قرآن کو ترتیل سے پڑھا کرو ۔

قرآنی آیات کے فیوض وبرکات بے پناہ وبے شمار ہیں جس کا احاطہ ممکن نہیں ،ہاں !آداب تلاوت میں آیا ہے کہ جس کو جو آیت یا سورہ اپنے حال کے موافق لگے، اُسے خوب دل جمعی اور خوش الحانی سے پڑھے تاکہ دل کوتسکین حاصل ہو ۔

محمد طارق رضا

Daastan e Mard e Momin

داستان مرد مومن

دوپہر کی گرمی شباب پر تھی، گرم اور خشک ہواؤں نے ریگستان کو جہنم بنا رکھا تھا، قرب و جوار کی بڑی اور مہیب چٹانوں پر اس وقت گویا موت رقص کر رہی تھی، ہر طرف دھوپ کی تمازت میں تپتی ریت ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر معلوم ہو رہی تھی، ایسی جان لیوا جگہ جہاں بھولے سے کوئی مسافر بھی رخ نہیں کرتا، ایک پریشان حال آدم زاد تڑپ رہا تھا، تندرست جسم اور خوبرو آنکھوں کی بناوٹ کہہ رہی تھی کہ وہ عربی النسل ہے۔ لیکن اس وقت اس کے جسم پر جگہ جگہ خراشوں کا جال بچھا تھا اور جلتے چھالوں سے دھواں اٹھ رہا تھا، پورا جسم شل ہو کر رہ گیا تھا۔ سامنے جلی ہوئی دو لاشیں ایک مرد اور ایک عورت کی ریت پہ پڑی تھیں۔ دونوں کے چہرے ضعیف العمری کا پتہ دے رہے تھے۔ ان کے جسم سے تازہ خون بہہ کر ریت میں جذب ہوتا جا رہا تھا۔ شاید وہ اس عربی کے والدین تھے۔

 اس نوجوان کی آنکھوں میں یاس و حشت کا سایہ صاف نظر آرہا تھا ۔ ایک انجانا سا خوف مسلسل کچوکے لگا رہا تھا ،اس نے اپنے وجود کو یکجا کیا اور پوری توانائی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، قدم لڑکھڑائے اور وہ گرتے گرتے بچا، سورج کی تیز شعائیں اس کے جسم میں پیوست ہو رہی تھیں، اس نے بڑی دقتوں سے آنکھوں پر ہاتھ کا سائبان بنا کر چاروں طرف دیکھا۔تاحد نگاہ ایک بھی متنفس نظر نہیں آیا، وہ انسانی درندے جنھوں نے اسے اس حال کو پہنچایا تھا کب کے جا چکے تھے اور وہ اکیلا ان بھیانک چٹانوں کے درمیان زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہو رہا تھا۔ اس کی بے چین گردش کرتی آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ اسے کسی ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو اس کی تڑپتی روح اور جھلستے جسم کی دوا کر سکے۔
آخر کار وہ اس کربناک وادی سے باہر نکلا۔ کوئی غائبانہ قوت تھی جو شروع سے ہی اس کی پشت پناہی کر تی چلی آرہی تھی، اور اب وہ اس موت کی وادی سے زندہ واپس ہو رہا تھا۔

خون بہت زیادہ بہہ چکا تھااور پھر چلچلاتی دھوپ! ہواؤں سے لہراتے اور ریگزاروں سے ٹھوکر کھاتے وہ دیوانہ وار ایک سمت کو بھاگنے لگا ۔زبان سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی اور دم ٹوٹنے ہی والی تھی کہ کھجور کے باغات سے آتی ہوئی ٹھنڈی ہواؤں کے لمس نے اس میں ایک نئی روح پھونک دی اور پھر سے اس کی نقاہت آمیز چال میں تیزی آگئی۔ 

مقام الصحابي الجليل عمار بن ياسر

اب وہ شہر میں داخل ہو چکا تھا، عمارتوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے کئی متحیر اور مشکوک نگاہوں نے اس کا تعاقب کیا، علاقہ خطرناک تھا۔ پھر بھی اس نے ہوش و حواس کو برقرا رکھا ، تیز قدم مسیحائے وقت کے در کی جانب اٹھتے رہے اور اب دیارِ حبیب نگاہوں کے سامنے تھا، تبھی اس کے قدم گویا زمین میں پیوست ہو گئے، ہزار کوششوں کے باجود اس کے پاؤں آہستگی سے کچھ اٹھنے لگے۔اطراف کا پورا علاقہ نور ونکہت میں ڈوبا ہوا تھا، بھینی بھینی خوشبوؤں سے فضا معطر تھی، یہاں تک پہنچنے کے بعد اسے کچھ طمانیت سی محسوس ہونے لگی۔ بوجھل قدموں سے راحۃ للعاشقین کی بارگاہ میں حاضر ہوا، پیچ و خم میں پڑی نظروں کو جھجھکتے ہوئے جنبش دی ! اور دل دھک سے رہ گیا! تقدس برساتی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھیں،آنکھوں سے آنسوؤں کا طوفان ابل پڑا، دل تڑپ اٹھا، چیخ نکل پڑی، بڑی دقتوں سے خود کو سنبھالا، اتنے میں انیس الغربین کی زبان مبارک میں حرکت ہوئی اور سماعت افروز آواز کانوں میں پڑی۔
اے عمار! تمھیں کیا ہوا؟ یہ سنتے ہی اس کا ہاتھ جلی ہوئی پیٹھ پر پڑا۔ خون اب تک رس رہا تھا ، ہاتھ اس مقدس ہستی کے سامنے کر دیا۔ پوچھا گیا کہ کیا اس تکلیف کی وجہ سے رو پڑے ہو؟ 
اتنا سننا تھا کہ ایمانی ولولہ میں روانی آگئی، دل کی دنیا میں طوفان بپا ہو گیا ، تڑپ کر کہہ اٹھے، نہیں!نہیں! میرے غمگسار! یہ تکلیف کیا ہے، میرے جسم کا ریشہ ریشہ بھی الگ کر دیا جاتا تو وہ تکلیف نہ ہوتی جس سے میں ابھی دوچار ہوں ۔ میرے آقا! کفار میرے والدین کو میرے ساتھ زنجیر میں کس کر صحرا کی طرف لے گئے۔ انہوں نے میرے ایمان کے مضبوط قلعے کو مسمار کرنے کا ہر حربہ آزمایا۔ میرے والدین کو صحرا کی تپتی ریت پر گھسیٹ کر نیزے مارے ، لیکن یا مراد المشتاقین !میرے والدین ثابت قدم رہے۔ بالآخر انہوں نے جسم کے ناقابل بیان حصے پر نیزے سے وار کی اور میرے والدین اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ’’فداک ابی و امی۔‘‘ اے میرے حبیب! یہ تڑپا دینے والا منظر مجھ پر اثر کر گیا، پھر میرے جسم پر آگ کا گولا ڈالا گیااور سختیوں کے پہاڑ توڑے گئے۔ میں مجبور ہو گیا اور میری زبان ان وحشی درندوں کے کافرانہ کلمات کی مرتکب ہوگئی اور یہی وحشت مجھے کھائی جا رہی ہے۔ ابھی وہ اپنی بپتا سنا ہی رہا تھا کہ نورانی چہرے کی کیفیت میں تبدیلی رونما ہونے لگی، تقدس برساتی آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند ہو جاتی ہیں ، چہرۂ انور کی تابانیوں سے قرب و جوار کے وجود میں حرارت آگئی۔ مختصر توقف کے بعد لبوں کی مقدس پتیوں پر کچھ سرسراہٹ نمودار ہوتی ہے اور فرماتے ہیں:

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ۝۱۰۶(نحل) 

یعنی جس کسی کو بھی مجبور کیا گیا کہ کلمۂ کفر کہے اور اس نے کہہ دیا اس حال میں کہ اس کا دل ایمان سے مطمئن تھا تو گویا اس کا ایمان سلامت رہا۔

یہ سنتے ہی اس نوجوان کے وجود میں معجزاتی تغیر رونما ہونے لگے ، شگفتگی و شیفتگی کی مستیوں نے اسے مخمور کر دیا اور اب اس کی پیشانی تشکر و امتنان سے زمین بوس تھی۔

 محمدطارق رضا 

Download Urdu Font (Jameel Noori Nastaleeq


اگر آپ اردو الفاظ ٹھیک طرح سے نہیں پڑھ سکتے تو پھر اردو فونٹ آپ کے کمپیوٹر پر انسٹال نہیں ہے۔ فانٹ انسٹال کرکے اس کو مزید نکھار سکتے ہیں۔

My Fazilat Convocation Ceremony in Jamia Arifia


۲۳ اگست ۲۰۱۶
داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کے دست قدس سے گل پوشی کا شرف حاصل کرتے ہوئے

اپنے فارغین دوستوں کے ساتھ

اپنے عزیز اور مخلص دوست سیف رضا صدیقی کے ساتھ

والد صاحب محمد خالد رضا اور ماموں جان محمد صائم حسین ضیائی و خالو جان محمد اسرائیل مصباحی کے ساتھ میں اور میرا خالہ زاد بھائی اختر تابش دستاربندی کے بعد خوشگوار موڈ میں 


میرے والد صاحب مع احباب داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی عرفانی مجلس میں شرکت کرتے ہوئے

اپنے چھوٹے بھائی حافظ محمد فائق رضا کے ساتھ 

Sheikh Aboobacker Ahmed

سلطان الاساتذہ قمر العلماء ابوالایتا م شیخ ابوبکر احمد
 عالم اسلام کی ایک تاریخ ساز عبقری شخصیت
  
کالی کٹ کیرالا جنوبی ہند کے بحیرہ عرب ساحلی علاقہ کیرالا کے نام سے مشہور ومعروف ہے ۔اس صوبے میں علم وفن کی ترویج واشاعت ،دعوت وتبلیغ کیلئے سب سے پہلے صحابہ کرام ،صالحین عظام کے مقدس قدم پڑے ۔کبھی اس صوبے کو حضرت مالک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے یاد کیا گیا تو کبھی  ہندوستان میں اسلام کی آمد کا شرف اولیں کا درجہ دیا گیا۔تاریخی روایت کے مطابق ہندوستان کی پہلی مسجد کی تعمیر کا بھی شرف سرزمین کیرالا کو حاصل ہے ۔اسی شہرمیں بدری صحابہ و ِحضرت آدم علیہ السلام کے قدم مبارک  کے نشان بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ریاست کیرالا میں کالی کٹ اور مالاپورم وقرب وجوار کا علاقہ ملبار کے نام سے شہرت یافتہ ہے ۔یہاں کے باشندگان کو ملباری کہا جاتا ہے ۔اسی علاقہ میں قطب عالم جلیل القدر شخصیت علامہ عبدالقادر،احمد کویا شالیاتی،شیخ زین الدین سمیت کئی اہم اکابرین اس خاکدان گیتی پر جلوہ نما ہوئے جواپنے زہد وتقوی عظمت  وبلندی کی بنیاد پر ممتاز اور قابل تقلید اور شہرت کے حامل ہوئے ہیںجنکی قائدانہ صلاحیت ، فکری بصیرت ،علمی کارنامہ بیان سے باہر ہے ۔لیکن اسی فرش گیتی پر اسے خالق کائنات کی نعمت عظمی کہئے کہ ہندوستان کے معروف تاریخی ریاست کے ضلع کالی کٹ سے تقریبا25کلو میٹر فاصلہ پر ’’کانداپورم‘‘نامی مقام پر ۲۲ مارچ 1931کو ایک علمی گھرانے میں شیخ ابوبکر بن احمد کا وجود بخشا جو اپنی تنہا ذات میں ہمہ جہت صلاحیتوں اور خداداد قائدانہ صلاحیت ،فکری بصیرت جماعتی اقتدار کی پاسبانی کا جذبہ لئے ہوئے ممتاز اور قابل تقلید شہرت کے حامل ہوئے ۔شیخ ابوبکر احمد ایک بین الاقوامی شخصیت کا نام ہے جس کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے ۔جنہیں کیرالا میں کاندراپورم اے پی ابوبکر استاد کے نام سے جانتے ہیں ۔آپکے تعمیری ،تنظیمی ،تحریکی کارناموں سے ساراجہاں واقف ہے ۔ 

شیخ ابوبکر نے وہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جنہیں صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ممالک خاص طور پر عرب ممالک میں قدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔آپ نے جو اپنی علمی کاوشوں اور انتھک محنت وکوششوں سے دینی ترویج واشاعت،معاشرتی تشکیل تنظیم و تحریک ،کفالت ایتام کا جو بگل بجایا ہے وہ انتہائی قابل تعریف ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپکو بیرون ممالک کی بڑی بڑی اسلامی کانفرنسوں میں ہندوستان کی طرف سے نمائندگی بھی کی۔آپکی انسانی خدمات اور تعلیمی تحریک کی بدولت عرب ممالک نے کافی تشجیعی اور تہنیتی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا ہے ۔گذشتہ سال سلطنت دبئی نے آپکو پندرہویں صدی کا عظیم مبلغ ’’مبلغ اعظم ‘‘ ایوارڈ سے سر فراز کیا ہے ۔بالخصوص قوم مسلم کے اندر اتحاد واتفاق،پورے ملک میں دینی وعصری تعلیمی کا فروغ ،یتیموں اور مسکینوں کی کفالت ،ملی ومذہبی قائدین ،رئوساء اسلامی تنظیم ،ائمہ مساجد ومدارس کو متحد کر کے ایک ہی نظام ونسق کے ذریعہ تعلیم وتربیت ،فلاحی خدمات اور معاشرتی امور کی نمائندگی جیسے اہم کارنامے ہیں جو اپنے آپ میں بلاشبہ عظیم کارنامہ ہے ۔کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک اور آسام سے لیکر گجرات تک ملی ومذہبی تعلیمی ومشارتی معاملات میں جس طرح سے تحریک جاری رکھی ہے وہ مستقبل قریب میں آنے والی نسلوں کیلئے کامیابی کی ضمانت ہے ۔

ابتدائی حالات:
 زمانہ طفولیت کی تعلیم وتربیت اپنے آبائی گھرانے میں پائی ،ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے شروع کی بعدہ کیرالا کے مختلف دینی اداروںمیں ثانوی تعلیم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ اعلی تعلیم کیلئے آپ جنوبی ہند کی قدیم مشہور معروف درسگاہ ’’جامعہ باقیات الصالحات ‘‘ویلور تمل ناڈو میں داخل ہوئے وہاں تکمیل تعلیم کے بعد 1964 میں سند فضیلت واجازت سے سرفراز کئے گئے ۔آپ نے فراغت کے بعد علمائے عرب  کے کئی اہم مشائخ وعلمائے کرام  جیسے ابولیس محمد عیسی فاذانی ،شیخ احمد طہ بن علی حدادوغیرہم سے اکتساب فیض کیا۔

تدریسی خدمات:
تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد شیخ الجامعہ شیخ ابوبکر نے جامع مسجد ایسٹیل میں چھ سال وجامع مسجد کولیکال میں سات سال تک خطیب ومدرس کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے ۔

جامعہ مرکز کا قیام:
امت مسلمہ کی فلاح وبہبودی ،دینی وعصری تعلیم وتربیت کی خاطر حضرت شیخ ابوبکر نے کالی کٹ شہر سے 13کلومیٹر فاصلہ پر واقع پُر امن فضا ء مقام کارنتھور میں 1978میں مفتی مکہ مکرمہ سید محمد بن علوی مالکی ؒکے مقدس ہاتھوں ملک کی عظیم الشان دینی وعصری اسلامی یونیورسٹی جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کی بنیادرکھوائی جہاں ملک بھر سے مثلا یوپی، بہار، بنگال، جھارکھنڈ ،آسام ،ہریانہ گجرات ،کشمیر،ممبئی ،دہلی ،چنئی وغیرہ سے اور بیرون ممالک مثلا عر ب ،امریکہ ، چین افریقہ ، ملیشیاء سری لنکا اور نیپال کے کل تقریبا 20ہزار سے زائد طلبہ وطالبات علمی تشنگی بجھا رہے ہیں ۔جن میںKGسے PGتک انجینئرنگ سے میڈیکل ،ثقافی سے اسکول،گریجویشن  کے علاوہ تکنالوجی ،مینجمنٹ ،پروفیشنل ٹریننگ تک کی تعلیم وتربیت کا معقول نظم ونسق ہے ۔جو آج ملک وبیرون ممالک میں ازہر ہند جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے نام سے معروف ومشہور ہے ۔
حضرت شیخ صاحب کی تعلیمی تحریک پر ریاست کیرالااور اور خارج میں کئی ادارے قائم ہوئے جن میں جدید طرز پر مشتمل دینی وعصری نصاب ونظام جاری ہے ۔کیرالا میں قابل ذکر ادارہ جامعہ سعدیہ کاسر گوڈ ،جامعہ احیاء السنہ مالاپورم ،جامعہ حسنیہ اسلامیہ پالاکاڈہیں جہاں دونوں تعلیم یکساں طور پر جاری ہے ۔آپکی سرپرستی میں ایک نہیںدو نہیں بلکہ 1000ایک ہزار سے زائد مدارس ومکاتب تقریبا800سے زائد مساجد و500پانچ سو CBSE انگلش میڈیم اسکول چل رہے ہیں ۔مزید ملکی سطح پر ملی ومذہبی نمائندگی وفلاحی خدمات کیلئے مسلم آرگنائزیشن آف انڈیا کے ذیلی کئی اہم فلاحی تنظمین بحسن خوبی کام کر رہی ہیں ۔جو ملک کی سب سے بڑی اقلیتی طبقہ کی خدمات انجام دے رہی ہے ۔

تصانیف:
حضرت شیخ صاحب قبلہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جہاں پر اللہ رب العزت نے آپکو بے شمار کمالات سے نوازا ہے وہیں تحریر وقلم کی بھی غیر معمولی قدرت وقابلیت عطا فرمایا ہے ۔یہی وجہ ہے ہمہ وقت درس وتدریس دعوت وتبلیغ میں مصروف رہنے کے باوجود بھی ایک درجن سے زائد کتابیں عربی وملیالم میں  تحریر فرمائیں ہیں ۔عربی کتابیں 1) (عصمۃ الانبیاء  2) (الوحدۃ الاسلامیہ 3) ( الاتباع والابتداع4) ( ریاض الصالحین5) (  السیاسۃ الاسلامیہ 6) ( فیضان المسلسلات  فی بیان الاجازۃ المتداولۃ7) ( طریقۃ التصوف  بین الاصیل  والدخیل  . ملیالی تصانیف 8) (  البراہین القاطعۃ  9) (ضد القادیانیہ 1) (مقدمۃ دراسۃ الاسلام  10) (صلاۃ المرۃ 11) ( دراسۃ عن اہل سنۃ  التعالیش  السلمی 12) ( النافورۃ الفکریہ  للعالم الاسلامی ۔

سنی جمعیۃ العلماء کیرالا کا قیام:
کیرالا میں علماء اہل سنت وجماعت کی ایک تنظیم 1926میں قائم ہوئی جسکا مقصد مسلمانان کیرالا کے مفاد عامہ فلاح وبہبود اور دینی تعلیم وتربیت کیلئے نمایاں خدمات انجام دی جائے ۔اس جمعیت کی ایک 40 رکنی مجلس شوری ہواکرتی ہے جس میں قابل قدر شخصیتوں اور ذی علم حضرات کو رکنیت دی جاتی ہے ۔1976میں حضرت شیخ ابوبکر کو اس مجلس شوری کا رکن منتخب کیا گیا۔پھر رفتہ رفتہ آپ اسکے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے ۔1975 میں شیخ ابوبکر کو جمعیۃ العلماء کی ذیلی شاخ جمعیۃ الشبان المسلمین (سمستھا کیرالا سنی یوجنا سنگم ) کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے اور 1995میں آپ یوجنا سنگم کے منصب صدارت پر فائز ہوئے ۔اسکے علاوہ ملک وبیروں ممالک کی کئی تنظیموں کا رکن اعلی منصب دیا گیا ۔

منصب قضاء:
شیخ موصوف کو 1993میں کالی کٹ ضلع کا قاضی بنایاگیا اور1995میں ویناڈ کا منصب قضاء بھی آپ کے سپرد کیا گیا۔

ملک گیر خدمات:
 شیخ ابوبکر صاحب اپنی قابل تعریف تنظیمی وتحریکی خدمات کی وجہ سے ملک بھر میں نیکنامی سے یاد کئے جانے لگے اور تنظیم وتحریک آپ کی ذات سے منسلک ہونے لگی۔تاکہ شیخ صاحب انہیں فروغ وارتقاء کی منزلوںتک لے جاسکیں ان ہی اسباب ووجوہات کے پیش نظر شیخ صاحب کو سنی جمعیۃ العلماء (آل انڈیاسنی جمعیۃ العلماء( کے جنرل سکریٹری کا عہدہ رتفویض ہوا۔اور آپ ہندوستانی مسلمانوں کی تعمیری وترقی ،اقتصادی ،ومعاشی بہتری اور تہذیب اسلام کے فروغ کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ۔حکومت  ہند کی جانب سے آپکو مرکزی حج کمیٹی کا رکن بھی مقرر کیا گیا ۔آپ ہندوستان کے غربت کے شکار علاقوں کے لوگوں کیلئے ریلیف کا بھی انتظام کرتے ہیں مسلمانوں کے قومی وملی مسائل کے حل کیلئے کئی بار ہندوستان کے وزراء اور ارباب حکومت سے گفت وشنید اور ان سے بات چیت کیا۔مسلمانوں کے مطالبات سے اہل حکومت کو آگاہ کیا ۔

عالمی خدمات:
شیخ ابوبکر صاحب سال  1998سے امریکہ کی مجلس اسلامی کے رکن ہیں اور اسی طرح عمان کے آل بیت یونیورسٹی کے بھی ایک رکن ہیں

خطبات ومواعظ: 
شیخ موصوف ایک عہد ساز خطیب اور فصیح اللسان مقرر ہیں ملک وبیرون ممالک میں مختلف علمی ،اصلاحی واعتقادی موضوعات پر پانچ ہزار سے زائد خطبات ہوچکے ہیں جن سے امت مسلمہ کو رہنماخطوط ملے ۔قوم ترقیات کی طرف راغب ہوئی اپنے ایمان وعمل پر قائم رہ کراسلامی شکل میں اپنی زندگی گذارنے کا انہیں سلیقہ ملا ہر عہد میں کچھ انقلاب آفریں شخصیات جلوہ گر ہوا کرتی ہیں ۔بلا شک وشبہ شیخ ابوبکر ان میں سے ایک ہیں ۔

عالمی کانفرنسوں میں شرکت:
آپ نے کیرالا میں ایک انقلابی کیفیت پیدا کردیا ان کی تعلیمی ،تعمیری ،تحریکی وتنظیمی خدمات کا شہرہ ہندوستانی حدود سے گذرتا ہوا دور دور تک پہونچااور آپ دنیا کے مختلف ممالک کی علمی وتہذیبی ،سماجی وسیاسی مجلسوں اور کانفرنسوں میں بحیثیت مندوب مدعو کئے گئے۔ قدرے تفصیل زینت قرطاس کی جاتیں ہیں ۔
1۔قاہرہ مصر کی وزارت امور اسلامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس میں آپ 1990سے ہر سال شریک ہوتے رہے ہیں ۔2۔سال 1996میں اقوام متحدہ کی پہلی کانفرنس میں شریک ہوئے جو لاس اینجلس [امریکہ]میں منعقد ہوئی اور شیخ نے ہندوستان کے مختلف ادیان کے مابیں امن عامہ کے موضوع پر خطاب کیا۔3۔کولمبیا 1996میںانگلینڈ ]میں منعقد ہونے والے سیمنار میں آپ نے شرکت کیا ۔4۔سال 1998میں واشنگٹن [امریکا] میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی دوسری کانفرنس میں شریک ہوئے اور عصر حاضر میں مسلمانوں کے اتحاد کے موضوع پر آپ نے خطاب کیا۔5۔اردن میں مسجد ابوعیبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کیلئے 1999میں مدعو ہوئے رسالت و نبوت ‘‘کے موضوع پر منعقد  ہونے والے سیمنار میں شریک ہوئے اور سنت نبویہ کی اہمیت پر خطاب کیا۔6۔2001میں کولا لمپور [ملیشیاء ]کی ایک کانفرنس میں حاضر ہوئے ۔7۔سال2003میں جنوبی افریقہ کے جوہانس برگ میں منعقد ہونے والی فقہ اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے اور’’فقہ قانونی زندگی‘‘ ہے  کے موضوع پر گفتگو کیا۔ سال 2006 میں یوروپ میں منعقد ہونے والی ازہری کانفرنس میں شریک ہوئے ۔9۔2008 میں ملیشیاء کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔10۔سال 2009میں دوحہ میں ایک مذہبی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔12۔2010میں اردن کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔13۔2010میں موریتانیا کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔14۔سال 2011میں جامعہ ازہر قاہرہ [مصر] کے زیر انتظام منعقد ہونے والی تصوف کانفرنس میں شریک ہوئے ۔15۔2012میں استنبول ترکی میں مسجد سلطان احمد میں قرآن کریم کانفرنس میں شریک ہوئے ۔16۔2005-06-07کے ماہ رمضان میں متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے بحیثیت مہمان خصوصی مدعو ہوئے ۔

درس بخاری:
 حضرت شیخ ابوبکر احمد تقریبا 30سال سے زائد جامعہ مرکز میںدرس بخاری دے رہے ہیں اس درس بخاری میں احناف وشوافع طلباء بیک وقت حاضر رہتے ہیں اور شیخ موصوف ائمہ اربعہ کے اجتہاد وفقہ کی تشریح کرتے ہوئے احادیث کے معانی ومفاہیم کو واضح کرتے ہیں۔ درس بخاری کا روح پرور منظر نہایت ہی حسین ہوتا ہے ۔عربی زبان میں بعد نماز فجر تقریبا ۳ گھنٹے تک درس بخاری ہوا کرتا ہے ۔شمالی طلبہ کیلئے اردو زبان میں بھی مسائل کی تشریح کرتے ہیں ۔اس درس بخاری کو ہر دن  طلبہ کے علاوہ مقامی وبیرونی حضرات بھی شریک ہوتے ہیں ۔علاوہ ازیں کثیر تعداد میںلوگ ویب سائٹ پر دیکھتے ہیں ۔آپکے درس بخاری کی جامعیت کا اندازہ اس طور پر بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وقتا فوقتا مختلف خصوصی موضوع پر سیمنار منعقد کیا جاتا ہے ۔ہر سال کے اخیر میں بخاری سمیلن کے نام سے عظیم الشان پیمانہ پر ختم البخاری اجلاس کا انعقاد ہوتا ہے جس میں عالم اسلام کی مقتدر شخصیات اور علماء ومشائخ سمیت سادات بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔کیرالا کے معروف بزرگ عالم دین تاج العلماء سید عبدالرحمن البخاری کے بزبان فیض ترجمان ختم بخاری اورآپکی  رقت انگیز دعائوںپر اجلاس کا اختتام ہوتا ہے ۔ہندوستان کی منفرد بخاری کانفرنس ہوتی ہے جس میں کم از کم 10دس ہزا ر سے زائد فارغین ثقافی اور معزز علماء شریک ہوتے ہیں ۔ 

 عبدالکریم امجدی( جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کالی کٹ کیرالہ)amjadinews@gmail.com/+91 9995629773 

Text Widget

 
Copyright © 2014 Welcome To My Official Blog ⅼ Tarique Raza. Designed by OddThemes | Distributed By Blogger Templates20